Welcome To Our Site ! Enemies Of Pakistan Expose !! Click Here To Go Our -->Facebook Page Click Here To Visit Our Youtube Channel Click Here To Follow Us On Twitter

اٹھو اٹھو کے ہم ہی کو انقلاب لانا ہے انشاالله

امید بنو تعمیر کرو سب مل کرپاکستان کی اے اہل وطن کے نوجوان ھم کو ہی اس ملک کو مشکلات سے نکالنا ہے اٹھو اٹھو کے ہم ہی کو انقلاب لانا ہے انشاالله

کیا یہ ہے پاکستان؟؟

کیا یہ ہے پاکستان؟؟ روٹی، کپڑا اور مکان یہ کیسا ہے پاکستان گولی، کفن، قبرستان جا گ رہا ہے پاکستان کیا یہ ہے پاکستان؟؟

!! بیغیرت حکمرانوں۔۔! مظلوم عوام کی آہوں اور بدعائوں سے ڈرو

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں دیکها جو زخم تو سہتا هے بغاوت نہیں کرتا

"Nations are born in the hearts of poets"

"Nations are born in the hearts of poets, they prosper and die in the hands of politicians." (Allama Iqbal) Join Our Fb Page:-> Enemies Of Pakistan

Infant killed by grandparents, body left outside father's house

Kon?

Saturday, 30 July 2011

فوج بری نہیں، جرنیل برے تھے؟





فوج بری نہیں، جرنیل برے تھے۔ یہ فقرہ ہر وہ کوئی دہراتا ہے جو فوج پر تنقید کرتا ہے مگر جب اس کی حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے تو جواب میں وہ فوج کی بجائے جرنیلوں پر اپنا غصہ نکال لیتا ہے۔ ہماری سوچ کچھ مختلف ہے۔ ہم کہتے ہیں جب لیڈر برا ہوگا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس کی تربیت کرنے والا طریقہ کار غلط ہے۔ جرنیل کوئی باہر سے تو آتے نہیں اسی فوج کے بطن سے جنم لیتے ہیں۔ جنرل ایوب، یحی، ضیا اور مشرف اسی فوج میں جونیئر افسربھرتی ہوئے اور فوج کے کمانڈر انچیف بنے۔ ظاہر ہے فوج کا بنیادی ڈھانچہ ہی خراب ہے کیونکہ وہ جنرل نیازی جیسے لیڈروں کی پرورش کرتی ہے جو بعد میں پلٹن میدان میں شہید ہونے کی بجائے ہتھیار ڈال کر دشمن کی قید میں چلے جاتے ہیں۔ اگر یہ نوے ہزار فوجی جاپانیوں کی طرح میدان میں جنگ میں شہید ہو گئے ہوتے تو آج تاریخ میں ان کا نام ہوتا اور پاکستان جاپان جیسا ملک ہوتا۔


کہتے ہیں برے کو نہیں مارو بلکہ برے کی ماں کو مارو تا کہ وہ کوئی اور برا پیدا نہ کر سکے۔ یہی اصول فوج پر لاگو ہونا چاہیے۔ ہماری فوج کی تربیت کا ڈھانچہ برطانوی راج کا بنایا ہوا ہے جسے آج تک بدلنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ فوجی جوانوں کو نماز پر لگانے والے افسر مذہب سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ ان کو شراب کباب کا عادی بنا دیا جاتا ہے، جدید تربیت کے بہانے انہیں یورپ کی سیر کرائی جاتی ہے جہاں گوری جمڑی سے ان کی جنسی تسکین کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اس طرح دو تین ماہ کے کورس کے بعد وہ کالے انگریز بن کر واپس لوٹتے ہیں۔ ایسے کالے انگریزوں سے محب الوطنی کی توقع کرنا حماقت ہی ہو گی۔ ایسی صورت میں ایک محب وطن اور پارسا فوجی لیڈر کا ابھرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔


جنرل کیانی کو تین سال مزید ایکسٹیشن دے کر فوج نے یہی ثابت کیا ہے کہ اس کا سیٹ اپ خراب ہے جو جنرل کیانی جیسا چیف دوبارہ پیدا نہیں کر سکتی۔ خدا کے بندو اگر فوج ڈسپلنڈ ادارہ ہے تو پھر جنرل کیانی اور جنرل شجاع کی مدت ملازمت میں توسیع کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ کیا ان کے جونیئر نااہل ہیں جو فوج کی سربراہی کے قابل نہیں اور جن پر فوج اعتبار نہیں کر رہی۔ فوج میں یہی ایک روایت زندہ رہ گئی تھی جسے ملیا میٹ کر دیا گیا۔


ہمارے خیال میں فوج کے تربیتی نظام میں اصلاح کر ضرورت ہے۔ یہ ہماری فوج ہی کیوں ہے جس کے سربراہ وطن فروش اور ڈکٹیٹر ہوتے ہیں جو اپنے وطن کی بجائے غیروں کی چاکری کرتے ہیں۔ جنرل ضیا اور مشرف نے  پاکستان کو افغانستان میں جھونک پر پاکستان کو کلاشنکوف، ہیروئین اور دہشت گردی جا جو تحفہ دیا وہ پاکستانی کو تباہی کے دہانے پر لے گیا ہے۔ مغربی ممالک کا فوجی نظام اتنا اچھا کیوں ہے جہاں فوجی بغاوت نہیں ہوتی۔ جہاں عرصے سے مارشل لا نہیں لگا۔ یہ پاکستانی فوج ہی کیوں ہر نو دس سال بعد جمہوریت کا قلع قمع کر کے ڈکٹیٹر بن جاتی ہے۔


اگر ملک سے مارشل لاہ کے خطرے کو ہمیشہ کیلیے ختم کرنا ہے تو پھر کسی نہ کسی سول حکمران کو فوج کے تربیتی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں لانا پڑیں گی۔ برطانوی راج کے بنائے تربیتی نظام کو بدل کر اسلامی تربیتی نظام لانا پڑے گا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر ایوب،یحی، ضیا اور مشرف جیسے جرنیل جمہوری حکومتوں پر شب خون مارتے رہیں گے۔

Sunday, 24 July 2011

سالانہ ساڑھے5ارب روپے کی غیرقانونی ٹیلیفون کالز

سالانہ ساڑھے5ارب روپے کی غیرقانونی ٹیلیفون کالز

کرپشن اور لوٹ کھسوٹ میں گھرے ہوئے پاکستان میں سالانہ ساڑھے پانچ ارب روپے کی غیرقانونی ٹیلی فون کالز کی جاتی ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وفاقی سیکریٹری سعید احمد کہ مطابق گرے ٹریفکنگ کی مد میں ساڑھے پانچ ارب روپے کی غیر قانونی کالیں ہو رہی ہیں اور اس دھندے میں لائسنس ہولڈرز بھی ملوث ہیں جبکہ بعض غیر قانونی موبائل ایکسچینج بھی بن چکے ہیں۔
وفاقی سیکریٹری سعید احمد نے قومی اسیمبلی کی قائم پبلک اکائونٹس کمیٹی کو معلوم دی کہ غیر قانونی گیٹ وے ایکس چینج چلانے والے متعدد افراد پکڑے جا چکے ہیں جبکہ اس عمل کو روکنے کیلئے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
کرپشن سے گھرے ہوئے ملک پاکستان میں غیر قانونی ٹیلی فون کالز کے عمل کو روکنے کیلئے اس جرم کے جرمانے کی حد ایک لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ اور قید ایک سال سے بڑھا کر 7 سال تک کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
قومی اسمبلی کی قائم پبلک اکائونٹس کمیٹی کے رکن نور عالم نے انکشار کیا ہے کہ فاٹا میں پی اے بننے کیلئے پولیٹیکل ایجنٹ 30 تا 40 کروڑ روپے رشوت دیتے ہیں جبکہ اربوں روپے کے فنڈز کے استعمال کا کوئی حساب نہیں اور فاٹا میں عوامی ٹیکسوں کی رقوم کے لفافے فاٹا بٹ رہے ہیں۔
آڈیٹر جنرل نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بتایا ہے کہ رواں برس فاٹا سیکریٹریٹ کے حساب کو خصوصی آڈٹ کیا جائے گا۔
پبلک اکائونٹس کمیٹی کے مطابق وزارتوں کے حساب میں سب سے زیادہ بے قاعدگیاں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے دور میں ہوئیں جبکہ کمیٹی نے سابق وزیر اعظم کو طلب کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
کمیٹی نے وزارت پانی وبجلی کو 2 ماہ میں 462 ارب ریکوری کرنے، طور خم کے علاقے سےروز گزرنے والے 256 نیٹو کنٹینرز سے معاوضہ وصول کرنے۔ انفرا اسٹرکچر کی تباہی کا معاملہ امریکی حکام کے سامنے اٹھانے اور نیٹو سامان کی آڑ میں اسمگلنگ کو روکنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
پبلک اکائونٹ کمیٹی کے ارکان نے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو طلب کرنےکا مطالبہ کرتے ہوئے وزارتوں اور ڈویزنوں کو ہدایت کی کہ وہ ہر صورت میں قواعد کی پیروی کریں۔
آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک پاکستان میں کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور بے قاعدگیوں کی وجہ سے اہم قومی ادارے تباہی کے کنارے پر کھڑے ہیں اور قومی خزانے کو کرپشن کی مد میں ہر سال اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
گزشتہ کچھ برسوں میں پاکستانی اداروں کی کرپشن سامنے والے عالمی ادارے نے رواں برس رپورٹ نھ لانے کی معزرت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے ورکرز پر حکومتی دبائو تھا جس وجہ سے وہ کام نہیں کر سکے۔

Friday, 15 July 2011

‎"ایم کیو ایم تجھے سلام"

‎"ایم کیو ایم تجھے سلام" 



ایک بیان جو الطاف حسین 
کے خلاف دیا گیا، اس پر ایم 
کیو ایم کے کارکن اٹھ کھڑے 
ہوئے اور اپنے قائد کی خاطر 
اپنی محبت کا اظہار 
دھشتگردی سے دیا۔


اور ملک کا نظام، کاروباری 
نظام درہم برہم کر دیا۔ لوگوں 
کا جینا 


مشکل میں ڈال دیا۔ ھزاروں لوگوں کو مارا گیا۔ کیا یے دھشتگردی 
نہیں۔۔؟


کیا ایم کیو ایم ایک امن پسند پارٹی ہے۔۔؟
اگر ہاں تو کراچی جو ایم کیو ایم کا گڑھ ہے۔۔ وہاں امن کیوں 
نہیں۔۔؟



زلفقار مرزا تو ہے ہی مینٹل کیس۔ اس کے ایسے بیان دینا کوئی 
نئی بات نہیں۔۔


آخر ایم کیو ایم والے اپنی اوقات دکھائے بغیر کیسے چپ رہتے۔۔

سندھ بھر کا امن خراب کر دیا ان بد بختوں نے۔

پر میں سلام پیش کرتا ہوں ایم کیو ایم کے کارکنوں کو جو اپنے 
قائد کے خلاف ایک لفظ برداشت نیں کر سکے اور جراْت کے ساتھ 
دہشتگردی کی۔۔ اور روڈ پر نکل آئے۔۔


آخر عوام کب اُٹھ کھڑی ہوگی۔۔؟

کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ ، کچھ نہ کہو خاموش رہو

اے لوگو خاموش رہو ، ہاں اے لوگو خاموش رہو

سچ اچھا پر اس کے جلو میں زہر کا ہے اک پیالہ بھیرہو
پاگل ہو ؟ کیوں ناحق سقراط بنو ، خاموش 


Wednesday, 13 July 2011

قائداعظم یونیورسٹی میں طالبات کوجنسی ہراساں کرنےکاانکشاف


قائداعظم یونیورسٹی میں طالبات کوجنسی ہراساں کرنےکاانکشاف

اسلام آباد : قائداعظم یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کا انکشاف  ہوا ہے.حالیہ واقعہ میں شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی  سال دوم  کی طالبہ  نے بھاگ کر پر وفیسر سے اپنی عزت بچائی ۔
قائد اعظم کے نام سے وابستہ بین الاقوامی شہرت یافتہ جامعہ میں بعض اساتذہ کے طالبات کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات مسلسل پیش آرہے ہیں،ایک ماہ دوسرا واقعہ پیش آیا ہے جس میں آئی ٹی کے پر وفیسر نور مصطفیٰ نے سیکنڈ سمسٹر کی طالبہ کو نمبروں کا لالچ دے کر بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔
قائد اعظم یونیورسٹی  کی طالبہ نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ نور مصطفیٰ گذشتہ دوسالوں سے حیلوں بہانوں سے بلاتا اور دفتر میں چائے پینے کی دعوت دیتا  جس کے بعد جمعرات کے روز اس نے ایک بار پھر دفتر میں بلا کر غیر اخلاقی حرکت کرنے کی کوشش کی۔میری جانب سے انکار پر پیپر میں فیل کرنے سمیت سنگین نتائج کی دھمکییاں بھی دیں ۔ طالبہ کی تحریری شکایت پر وائس چانسلر ڈاکٹر معصوم یاسین  زئی نے شفاف تحقیقات کے لیے معاملہ یونیورسٹی کی ہراسمنٹ کمیٹی کے سپر دکردیا ۔
وائس چانسلر کا کہناہےکہ  معاملے کی چھان بین  کے لیے یونیورسٹی  رجسٹرار کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے،ڈاکتر معصوم یاسین زئی  نے کہا کہ یو نیورسٹی میں اس قسم کے اساتذ ہ کو کسی صورت بر داشت نہیں کیا جائے گا اور الزام ثابت ہونے پر سخت کاروائی کی جائے گی۔
قائداعظم یو نیورسٹی کے وی سی کا کہنا تھا کہ “ایسے ایشوز کی روک تھام کے لیے جامعہ میں ایک  اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے”۔
قائد اعظم یو نیورسٹی  کی طالبہ سے مبینہ زیادتی میں ملوث پروفیسر سے موقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو اول تووہ اپنی شناخت سے منکرہوئے لیکن بعد میں اپنے دفترسے بھی فرادر ہوگئے۔

Thursday, 7 July 2011

آسٹریلیا: پولیس کو نقاب ہٹانے کے اختیار

آسٹریلیا: پولیس کو نقاب ہٹانے کے اختیار

فائل فوٹو
آسٹریلیا کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسلامی نقاب کسی بھی خاتون کی مثبت شناخت کو ناممکن بنا دیتا ہے۔
آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں پولیس کو مشتبہ جرائم پیشہ افراد کی شناخت کے لئے برقعہ اور چہرہ ڈھانپنے والی کسی بھی دوسری چیز کو ہٹانے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
چہرہ دکھانے سے انکار کی صورت میں ایک سال کی سزا یا بھاری جرمانہ کیا جائےگا۔
حالیہ اقدام ایک مسلمان خاتون کے ایک مقدمے سے رہائی کے بعد اٹھایا گیا ہے جس کے دوران عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اسلامی نقاب کسی بھی خاتون کی مثبت شناخت کو ناممکن بنا دیتا ہے۔
ریاست میں مسلمان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس نئے فیصلے سے مطمئن ہیں تاہم شہری تنظیموں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو وہ اختیارات دیےگئے ہیں جن کی انہیں ضرورت نہیں ہے۔
آسٹریلیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کی حکومت نے پیر کو دیر رات ایک اجلاس کے دوران ان تبدیلیوں کی منظوری دی۔
ریاست کے سربراہ بیری او فیرل کا کہنا تھا ’مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی شخص موٹر سائیکل ہیلمٹ پہنے ہوئے ہے یا برقعہ، نقاب پہنے ہوئے ہے یا چہرے کا حجاب یا کوئی اور چیز، پولیس کو اجازت ہونی چاہئیے کہ وہ لوگوں سے ان کی مکمل شناخت ظاہر کروائے‘۔
آسٹریلیا میں مسلمان خواتین کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اس معاملے میں حساس رویہ اپنائے اور خواتین پولیس اہلکاروں کو تعینات کرے تو انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں لیکن جب قانون کے نفاذ کی بات آتی ہے تو پولیس کو ضروری اختیارات دیے جانے چاہیئیں جن سے وہ لوگوں کی شناخت واضح کریں۔‘
ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں جو بھی اپنے چہرے سے پردہ ہٹانے سے انکار کرے گااسے ساڑھے پانچ ہزار آسٹریلین ڈالر جرمانہ یا ایک سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔
ریاست کی پولیس نے اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ’اس سے عوام اور پولیس افسران دونوں کو شفافیت اور اعتماد حاصل ہوگا۔‘
نیو ساؤتھ ویلز میں اسلامک کونسل نے کہا ہے کہ وہ اس اقدام کی توقع کر رہے تھے جبکہ مسلمان خواتین کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اس معاملے میں حساس رویہ اپنائے تو انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے خواتین پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔
ریاستی قانون میں یہ تبدیلی اس مقدمے کے بعد کی گئی ہے جس میں گذشتہ برس کارنیتا میتھیوز نامی ایک خاتون کو چھ ماہ کی سزا دی گئی۔ کارنیتا نے مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار پر جھوٹا الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ایک عام سانس کے ٹیسٹ کے دوران زبردستی اس کا برقعہ اتارنے کی کوشش کی تھی۔
تاہم ایک اپیل کے بعد وہ یہ مقدمہ جیت گئیں۔ جج نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ یہ ثابت نہیں کرسکا کہ خاتون نے جھوٹی شکایت درج کروائی ہے کیونکہ پولیس اہلکار اس خاتون کا چہرہ نہیں دیکھ سکے تھے۔
ریاست کی پولیس کو اس سے پہلے یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ سنجیدہ نوعیت کے معاملات میں شناخت کی غرض سے چہرے کا نقاب ہٹانے کی درخواست کر سکتی تھی لیکن اب معمول کی کاروائی کے دوران بھی وہ ایسا کر سکتی ہے۔
آسٹریلیا کی مغربی ریاست کی حکومت بھی اب اس طرز کی قانون سازی کے بارے میں غور کر رہے ہے۔

    Tuesday, 5 July 2011

    اسلام آباد سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں کا اجتماع


    اسلام آباد سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں کا اجتماع




    اب یے
    "Human And Women Rights" 
    سے سیدھا 
    "Gay And Lesbian Rights"
    مانگنے تک آ گئے۔۔


    آپ کیا کہتے ہیں اس کے بارے میں؟


    The US Embassy arranged the first ever Gay, Lesbians & Trans gender Pride Celebration Ceremony in Islamabad & assured its participants that Washington would continue to support their cause here in Pakistan !!!!

    Source: 
     http://ejang.jang.com.pk/0
    7-03-2011/Karachi/pic.asp?picname=4248.gif

    Sunday, 3 July 2011

    بچوں کی نئی کہانیاں



    • ایک پیاسا کوا اڑ رہا تھا، اچانک اسے نیچے پانی اور کچھ کنکر نظر آئے۔ جیسے ہی وہ پانی میں کنکر ڈالنے کے لئے نیچے اترا، خود کش دھماکے میں مارا گیا

    • ایک کتے نے قصائی کی دکان سے گوشت چرایا۔ وہ پانی میں اپنا عکس دیکھ ہی رہا تھا کہ نا معلوم افراد نے اسے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا
     
    • کچھوے اور خرگوش نے ریس شروع کی اور خرگوش  کے سوتے ہی کچھوے نے اس کا پرس چوری کر لیا

    • الہ دین نے چراغ رگڑا تو وہ زور دار دھماکے سے پھٹ گیا

    Twitter Delicious Facebook Digg Stumbleupon Favorites More