Welcome To Our Site ! Enemies Of Pakistan Expose !! Click Here To Go Our -->Facebook Page Click Here To Visit Our Youtube Channel Click Here To Follow Us On Twitter

Friday, 10 June 2011

رینجرزکےہاتھوں نوجوان کا قتل،حقائق

 

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں ایک نوجوان کے قتل کے بعد جہاں دنیا بھر  کے میڈیانے اسے شہ سرخیوں کی زینت بنایا ہے وہیں اس واقعہ کی جزئیات سے عدم آگہی نےاضطرابی کیفیت بھی پیداکی ہے۔

  مذکورہ واقعہ کی اب تک سامنےآنے والی تفصیلات ریڈرزسے شئیر کی جا رہی ہیں تاکہ پورامنظرنامہ واضح ہوسکے۔

8 جون کوقتل ہونے والا سرفرازشاہ ایک بھولی بسری یاد بنے گا جواپنے والدین کے سینوں میں کسک کی صورت زندہ رہے گی یا30 دنوں میں اس کے قاتل قرار دئے جانے والے رینجرزاہلکاراپنے کئے کی سزا پائیں گے۔

کراچی کےساحلی علاقے کلفٹن میں واقع سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹوکےنام سےمنسوب پارک کے سامنے  خون میں نہلائے جانے والےمیٹرک کے طالب علم کی لاش نے پاکستانیوں کو انتظارکا شکارکردیاہے۔

مصروف ترین سڑک کے کنارے پیش آنے والے واقعہ میں رینجرز اہلکار سینکڑوں آنکھوں کے سامنے نہتے نوجوان پر جی تھری رائفل کی گولیاں برساتے اور زخمی نوجوان کو آدھے گھنٹے تک سڑک پر تڑپتا ہوا دیکھتے رہے ،جب نوجوان نیم مردہ ہوگیا تو اسے جناح اسپتال لایاگیا ۔مگریہاں پہنچنے تک سرفرازشاہ میٹرک کا طالب علم نہیں بلکہ ایک “ڈاکو”بن چکا تھا۔

وفاقی حکومت کےماتحت طبی مرکز لایا جانے والا زخمی سرفراز خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے بچ نہ سکااور اسپتال میں دم توڑ دیا گیا۔ رینجرز اہلکاروں کو جب علم ہوا کہ مرنے والا مقامی چینل کے رپورٹر کا بھائی ہے تو انہوں نے فوری طور پر جائے وقوعہ کو دھلواکر شواہدغائب کر دیئے۔ واقفان حال کا کہنا ہےکہ پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی جائے قتل بھی یونہی دھودی گئی تھی لہذا مرضی کا کرائم سین ترتیب دیا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انہی پھرتیوں کےدوران ایک فرضی مدعی افسر خان کی مدعیت میں سرفراز شاہ کے خلاف لوٹ مار اور رینجرز سے مقابلے کا مقدمہ بھی درج کروادیا گیا۔

سرفراز شاہ کے رینجرزاہلکاروں کے ہاتھوں قتل کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد جب مقتول کے اہل خانہ اور صحافی تنظیموں نے وزیر اعلی ہاوس کے سامنے لاش رکھ کر دھرنا تو پولیس نے 5 گھنٹے  کے بعد رینجرز اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

رینجرز اہلکاروں کے اس ظالمانہ اقدام کے بعد پولیس اور رینجرز کے اعلی حکام قاتل اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے سرفراز شاہ کا کرائم ریکارڈ ڈھونڈنے میں مصروف  ہوگئے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کی جانب سے اعلی سطحی تحقیقات کرنے کے دعوے کے باوجود کسی بھی تحقیقاتی ٹیم نے اپنا کام شروع نہیں کیا۔

ہمیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق 8 جون 2011 کےروز مریضوں کی منتقلی کےلئے کام کرنے والے نجی امدادی ادارے چھیپا  کی جانب سے صحافیوں کو بذریعہ ایس ایم ایس پیغام بھیجا گیا کہ رینجرز سے مقابلے میں ایک ڈاکو ہلاک ہوگیا ہے جس کی لاش جناح اسپتال لائی گئی ہے، یہ ایس ایم ایس 6 بج کر 14 منٹ پر بھیجا گیا تھا جب کہ یہی ایس ایم ایس مقامی چینل کے رپورٹر سالک شاہ کو بھی موصول ہوا لیکن اس نے مذکورہ ایس ایم ایس پر توجہ نہیں دی کیونکہ اس کے گھر سے والد ہ کا فون آیا تھا کہ اس کا بھائی سرفراز شاہ کا بینظیر پارک میں جھگٹراہوگیا ہے اور رینجرز والے اسے اٹھا کر لے گئے ہیں،یہ بات سن کر سالک شاہ  فوری طور پر  بینظیر پارک پہنچا تو معلو م ہوا کہ وہاں رینجرز نے ایک نوجوان کو گولی ماردی ہے اور اس کو زخمی حالت میں جناح لے گئے ہیں یہ بات سن کر سالک شاہ کی نظروں کے سامنے سے وہ ایس ایم ایس آنے لگا جس میں چھیپا  ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے پیغام تھاکہ رینجرز نے مقابلےمیں ڈاکو ماردیا ہےسالک شاہ نے بینظیر پارک سے ہی اپنے ساتھی رپورٹر کو فون کر کے پوچھنا شروع  کیا کہ رینجرز  نے کس کو مقابلے میں مارا ہے لیکن ساتھی رپورٹر  کو مرنے والے کا نام معلوم نہیں تھا۔سالک شاہ فوری طور پر جناح اسپتال پہنچا اور اس نے جناح اسپتال کی ایمرجنسی کے اندر کھڑے ہوئے رینجرز اہلکار سے پوچھا کہ مقابلے میں کس کو مارا ہے تو اس اہلکار نے ایمرجنسی وارڈ میں ایک اسٹریچر پرموجودلاش کی جانب اشارہ کیا۔اسٹریچرپرموجودلاش کےاوپرموجودچادرسفیدکےبجائے خون سے سرخ ہوگئی تھی۔

سالک شاہ  نے جیسے ہی لاش کے چہرے سے کپڑا اٹھایا تو وہ لاش کسی ڈاکو کی نہیں بلکہ اس کے اپنے چھوٹے بھائی سرفراز شاہ کی تھی۔سالک شاہ لاش سے لپٹ کر رونے لگا ۔ اس  دوران دیگر مقامی ساتھی رپورٹر بھی جناح اسپتال پہنچ گئے  اور یہ بات کھل گئی کہ رینجرز نے جس نوجوان کو جعلی مقابلے میں قتل کیاہے،وہ نوجوان مقامی رپورٹر کا بھائی ہے۔یہ سنتے ہی جناح کا اسپتال میں موجود  رینجرز کے اہلکار غائب ہوگئے اور صحافیوں کی جانب سے جناح اسپتال میں رینجرز کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ اس دوران رینجرز اہلکاروں  کی جانب سے جائے وقوعہ پر جا کر اس جگہ کو دھلوادیا گیا جہاںسرفراز شاہ کو گولیاں مارکر قتل کیا گیا تھا۔

میڈیارپورٹس کےمطابق جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول بھی غائب کردیئے گئےاور رینجرز کی جانب سے فوری طور پر جعلی پولیس مقابلے کی ایف آئی آر درج کرانےکی کوششیں شروع کردی گئیں۔دوسری جانب صحافیوں  نے بھی مقابلے کو جعلی قراردیتے ہوئےجناح اسپتال کے باہر دھرنا دیا اور رینجرز اہلکاروں کے خلاف  مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔اس دوران پولیس اور رینجرز کے اعلی حکام تک اس بات کی اطلاع پہنچ گئی تھی کہ رینجرز نے جو مقابلہ کیاہے وہ مشکوک ہے۔اس مرحلےپر رینجرز کو مقابلے کا مقدمہ درج کرنے کے لیے ایک پرائیوٹ مدعی کی ضرورت  تھی جس پر رینجرز نے ایک نوجوان افسر خان کو مدعی کے طور پر پیش کیا۔

افسر خان کی حقیقت کیا تھی یہ شاید رینجرز کو بھی معلوم نہ تھا۔دوسری جانب صحافیوں کی جانب سے پولیس کے اعلی حکام سے رابطہ کیا جاتا رہا  کہ سرفراز شاہ کو جعلی مقابلے میں ماراگیا ہے۔لہذا اس جعلی مقابلے کا مقدمہ رینجرز اہلکار وں کے خلاف درج کیا جائے۔پولیس کے اعلی افسران،ڈپٹی انسپکٹرجنرل پولیس  سائوتھ اقبال محمود اورسپریٹنڈنٹ آف پولیس کلفٹن طارق دھاریجو کی جانب سےرابطہ کرنےوالوں کو تسلیاں دی گئیں۔اسی موقع پر صحافی تنظیموں کی جانب سے پولیس  کے اعلی افسران  کو بتایا گیا کہ  رینجرز  اہلکار بوٹ بیسن  تھانے  میں جعلی مقابلے کی ایف آئی آر  درج کر ارہے ہیں لیکن پولیس نے موقف اختیارکیاکہ وہ رینجرز کی ایف آئی آر درج نہیں کررہی  ۔

معاملہ مشکوک ہوجانےپر صحافی تنظیموں اور مقتول کے اہل خانہ نے لاش کو جناح ہسپتال  کے مردہ خانے سے بوٹ بیسن تھانے لے جانے کا فیصلہ کیا۔پاکستان کےمرکز اورصوبہ سندھ میں حکمراں جماعت  پیپلزپارٹی کےمرکز قراردئےجانےوالےبلاول ہائوس سے چند قدم دورپیس آنےوالا اندوہناک قتل کا یہ واقعہ  بوٹ بیسن تھانے   کی ہی حدودمیں سامنےآیاتھا۔
احتجاج کرنےوالوں نےتھانےکے باہر لاش رکھ کر دھرنا دیا  اس دوران لواحقین اور صحافی تنظیموں کا مطالبہ تھا کہ رینجرز اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے۔مگردرون خانہ یہ طے ہو چلا تھاکہ رینجرزکی کاررواءی کو اصل مقابلہ ظاہر کرنا ہے۔رینجرز کی جانب سے دیئے گئے مدعی  کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا اور معاملے کی تفتش کرنے کا کہہ کراحتجاج کرنےوالوں کےغصے کو ٹھنڈا کرنے کا کہا گیا ۔

رینجرز نے پولیس کے ساتھ ساز باز کرکے بوٹ بیسن تھا نے میں ایف آئی آر نمبر 225/2011 زیر دفعہ 393/353/325 درج کرائی جس میں مدعی افسر خان ولد گل محی الدین تھا۔ جس کا ایف آئی آر میں مکان نمبر 396 جنرل آباد جناح شریں کالونی کراچی ایڈریس درج ہے اور اس  کا موبائل فون0324.2850085 ہے اس نے ایف آئی آر میں لکھوایا کہ  میں منرل واٹر کا کام کرتاہوں سوا پانچ بجے گیٹ نمبر 2 بینظیر پارک  کلفٹن بلاک 4 پر موجود تھا ۔ میرا دوست  عالم زیب پولیس والا اپنی فیملی کے ساتھ آیا  تھا۔میں اس کے لیے پانی لینے گیا  جب واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک آدمی جس کے ہاتھ میں پستول تھا اور وہ عالم زیب اور اس کی بیوی کو کہہ رہا تھا  تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ نکال دو۔ اس دوران  پارک میں موجود فیملیز نے شور کردیا جس پر ڈیوٹی پر مامور رینجرز کے اہلکار وہاں پہنچ گئے ۔میں نے دیکھا کہ ڈاکو نے انہیں جان سے مارنے کےلیے ان پر فائرنگ  کی اور رینجرز نے اپنے دفاع میں جوابی فائرنگ کی جس سے ڈاکو زخمی ہوکر گر پڑا اور اس کا پستول گرگیا۔بوٹ بیسن پولیس نے افسر خان کی مدعیت میں ایف آئی آر 7 بج کر 30 منٹ پر درج کی جب کہ رینجرز کی جانب سے پولیس کو ہدایت تھی کہ سرفراز شاہ کے قتل کا مقدمہ درج نہ کیا جائے  ۔اس دوران پولیس کے اعلی افسران غلط بیانی سے کام لیتے رہے ،ان کا کہنا تھا کہ مرنے والا ڈاکو ہے اور مدعی نے مقدمہ درج کروادیا ہے۔

پولیس کی جانب سے عجلت میں درج کئےجانےوالے مقدمہ نےیہاں نئےسوالوں کوجنم دیا کہ مدعی کے بیان کےمطابق واقعہ اگر اس کے دوست پولیس اہلکار عالم زیب اور اس کی بیوی سے لوٹ مار کاتھا  تو مقدمہ اس نے درج کیوں  کروایا؟ پولیس اہلکار خود مدعی کیوں نہیں بنا جس کے ساتھ واقعہ پیش آیا تھا؟
مگراپنے ہی پیداکردہ ان سوالوں کےجواب خود پولیس کے پاس بھی نہیں تھے۔ جب پولیس کی جانب سے سرفراز شاہ کے جعلی مقابلے کرنے کا مقدمہ رینجرز اہلکاروں کے خلاف بوٹ بیسن تھانے مین درج نہیں کیا گیا تو سرفراز شاہ کے لواحقین اور صحافی تنظیموں نے وزیر اعلی ہاوس پر لاش رکھ کر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا۔رات وزیر اعلی ہاوس کےسامنے دھرنا شروع ہوا تو فوری طور پرڈی آئی جی ساوتھ اقبال محمود نے ایس پی ارشاد رضا سیھڑ کو پولیس کی بھاری نفری  دے کر وزیر اعلی ہاوس بھیج دیا اور انہوں نے صحافیوں کی تنظیم کے عہدیداران اور لواحقین سے مذاکرات شروع کئے۔ اس دوران کہاگیاکہ لواحقین کے مطالبے پر رینجرز اہلکاروں کے خلاف  مقدمہ درج کیا جائے گیا،آپ لوگ احتجاجی دھرنا ختم کردیں، لیکن لواحقین اور صحافیوں نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا،جس کےبعد وزیر اعلی ہاوس کے ترجمان کی جانب سے بھی یقین دہانی کرائی گئی کہ رینجرز اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج اور لواحقین کے ساتھ انصاف ہوگا۔ لیکن لواحقین اور صحافی تنظیموں کا مطالبہ تھا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد ہی دھرنا ختم ہوگا۔

جس کے ایس پی ارشاد رضا نے کہاکہ لواحقین میں سے جو مقدمہ درج کروانا چاہتاہے وہ بوٹ بیسن  جا کر مقدمہ درج کروادے ، جس پر سرفراز شاہ کے بڑے بھائی مقامی نجی چینل کے رپورٹر سالک شاہ نے کہاکہ وہ خود مدعی بنیں گے اور انہوں نے صحافی تنظیموں کے عہدیدان سے کہا کہ وہ ان کے ہمراہ چل کر مقدمہ درج کروائیں۔جس  پر ایس پی صدر  ارشاد رضا نے کہاکہ میں اپنے تھانے کے ایس ایچ او شہاز کو آپ لوگوں کے ہمراہ بوٹ بیسن تھانے بھیجتاہوں،وہاں پر ٹی پی او کلفٹن اور دیگر افسران ہوں گے وہ مقدمہ درج کرلیں گے جس کے بعد سالک شاہ صحافی تنطیموں کے چند عہدیداروں کے ہمراہ بوٹ بیسن تھانے پہنچے لیکن بوٹ بیسن تھانے میں نہ تو ایس پی کلفٹن طارق دھاریجو تھے اور نہ ہی کوئی اعلی افسر،تھانے میں صرف ایس ایچ او بوٹ بیسن انسپکٹر نصیر تنولی موجود تھے جس نے کہاکہ آپ ڈیوٹی افسر سب انسپکٹر کوبیان دیں تو مقدمہ درج کرلیں گے، جس پر صحافی تنظیموں کے عہدیداروں نے کہاکہ ٹی پی او کلفٹن ایس پی طارق دھاریجو موجود نہیں ہیں تو انسپکٹر نصیر تنولی نےکہاکہ وہ راستےمیں ہیں،پہنچنے والے ہیں جب تک آپ اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔ ابھی سالک شاہ   کی جانب سے اپنا بیان ریکارڈکروایا جارہا تھا کہ معلوم ہوا کہ ایس پی کلفٹن طارق دھاریجو آگئے لیکن انہوں نےتھانے  آکر مقتول سرفراز شاہ کے بھائی سے ملاقات نہیں کی بلکہ اپنے ایس ایچ او کو بلاکر ہدایت دی اور اپنی کار سے اتر کے کار کے پاس کھڑے رہے جب انہیں ایس ایچ او نے بتایا کہ یہ مقتول کے بھائی ہیں تو انہوں نے سالک شاہ سے مصافحہ کیا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے  ان کے رویے سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ مقدمے کے انداج سے خوش نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر کسی جانب سے مقدمہ درج کرنے کا دباؤ ہےجب کہ سالک شاہ نے اپنے بیان میں رینجرز اہلکاروں کو اپنے بھائی کا قاتل بتایا  تو مذکورہ بیان کی کاپی لے کرایس ایچ او انسپکٹر  نصیر  تنولی اور ڈیوٹی سب انسپکٹر ریاض تھانے سے باہر چلے گئے ۔اسی دوران ایک مقامی سندھی چینل آوازٹیلی ویژن نے دل دہلا دینےوالی وہ ویڈیو اپنے چینل سے نشر کردی۔ جس میں رینجرز کی جانب سے ایک نوجوان کو بینظیر پارک کے باہر لے جا کر گولی ماری جارہی ہیں اس ویڈیو نے رینجرز کے جھوٹ کا پول کھول دیا ۔جب   مقدمہ درج ہونے میں تاخیر ہونے لگی تو ایک صحافی نے ڈی آئی جی ساوتھ اقبال محمود سے رابطہ کیا گیاتو ان کا کہنا تھا کہ وقوعہ  کی ایک ایف آئی آر ہوگئی ہے اور دوسری ایف آئی آر کے لیے لیگل ڈپارٹمنٹ سے مشورہ لینا  پڑے گاجس سے واضح ہوگیا تھاکہ پولیس مقدمہ درج کرنا نہیں چاہ رہی  مگر سارے ملک کے چینلز پر چلنے والی ویڈیو  کے بعد پولیس اور رینجرز کے اعلی افسران پریشان تھے کیونکہ اس سےثابت ہوگیا تھاکہ سرفراز شاہ کو باقاعدہ پکڑ کر گولیاں ماری گئی ہیں وہ گڑ گڑا کر اپنی جان کی معافی مانگتا رہا  جنہوں نے اس کی ایک نہ سنی اور سب کے سامنے اس پر گولیاں برسادیں جب کہ زخمی حالت میں بھی سرفراز شاہ اسپتال لے جانے کا کہتارہا  لیکن سفاک رینجرز اہلکاروں نے ایک نہ سنی اور وہ شدید زخمی حالت میں بے ہوش ہوگیا اس کے جسم سےخون رس رہا تھا آدھے  گھنٹے تک اہلکار اسے تڑپتا دیکھتے رہے اور پھر جب وہ نیم مردہ  سا ہوگیا تو اسے یہ کہہ کر اسپتال لے گئے کہ انہوں نے مقابلے میں ڈاکو مادیا ہے لیکن ویڈ یو نے حقیقت  کو سب کے سامنے  کھول کردیا اس دوران صحافیوں نے سی ایم ہائوس کے سامنے پروجیکٹر لگا کر وہ ویڈیو چلادی جس سے ہر آنکھ اشکبار ہوگئی جس پر اعلی حکام حرکت میں آگئے اور انہوں نے رات ایک بجے سرفراز شاہ کے قتل کا مقدمہ  ایف آئی آر 227/2011 زیر دفعہ 302/34 کے تحت بڑے بھائی سالک شاہ کی مدعیت میں رینجرز کے 6 اہلکاروں کے خلاف درج کرلیا گیا  ۔

یہ ہوجانےپرلواحقین و صحافیوں نے دھرنا ختم کردیا،تمام معاملہ واضح ہونے کے بعد اعلی حکومتی عہدیداران رینجرز کو بچانے کے لیے سرفراز شاہ کا کرائم ریکارڈ تلاش کرنا شروع کردیا تاکہ اس نوجوان طالب علم کو ڈاکو ثابت کیاجاسکے۔
تحقیقات کے مطابق سرفراز شاہ ہجرت کالونی کا رہائشی  ہے جو کہ گھر میں بجلی نہ ہونےکی وجہ سے بینظیر پارک گیا تھا جہاں اس کا جھگڑا ہوگیا عینی شاہدین  کےمطابق سرفراز کا جس نوجوان سے جھگڑا ہوا تھا اس نے جھگڑا کے دوران کسی کو کمانڈو کہہ کر آواز دی  جس نے سفید کپڑے اور سفید کیپ پہنا ہوا تھا  اس نے سرفراز کو پکڑ کر مارنا شروع کردیا وہ اسے مارتاہوا رینجرز اہلکاروں کے پاس لے گیا  جب کہ مزید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہی شخص جعلی مقابلے کا مدعی افسر خان ہے جو کہ پارک کی سکیورٹی کا حصہ ہے اور اس کے رینجرز کے اہلکاروں سے تعلقات ہیں اور  سرفراز کا جس پولیس اہلکار عالم زیب سے جھگڑا ہوا تھا وہ بھی افسرخان کا ہی دوست تھا اور اس کی جانب سے ایف آئی آر میں درج ایڈریس بھی غلط ہے وہ مکان کافی عرصے قبل تبدیل کرچکا ہے جب کہ افسر خان  شاہ جی چوک شیریں جناح کالونی کے قریب واقع جنرل آباد نمبر 2 کی کچی آبادی  میں رہائش پذیر ہے ۔

علاقے کے لوگوں کے مطابق افسرخان کا خاندان علاقے میں 22 خاندان کے طور پہنچانا جاتا ہے۔مقامی افرادکےمطابق 9جون کی دوپہر 2 بجے رینجرز والے افسر خان کو اپنے ساتھ نامعلوم مقام پرلےگئےہیں جب کہ  پولیس اہلکار عالم زیب بھی غائب  جس کے بارے میں بوٹ بیسن  پولیس کاکہنا ہے کہ وہ سی آئی ڈی کا اہلکار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک کی جانب سے تحقیقات شروع کرنے کےدعوے کے باوجود  وقوعے کے 50 گھنٹے گذرنے کے بعد بھی تفتیش شروع نہیں ہو سکی ہے۔ایس آئی یو بوٹ بیسن راجہ اظہر محمود نے بتایا کہ مدعی افسر خان نے ایک  پستول  کا چلا ہوا خول اور تین بغیر  چلی ہوئی گولیاں جمع کروادیں  ہیں جب کہ رینجرز اہلکار اپنی G3 سے فائر کردہ  گولیوں کے خول اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

کراچی سے شائع ہونےوالے اردوروزنامہ امت کے مطابق انوسٹی گیشن  پولیس کےایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنےکی شرط پر بتایا کہ رینجرز نے پورے کیس  میں قانون  کے مطابق کارروائی نہیں کی جب کہ انہیں فرد کو سب سے پہلے متعلقہ تھانے کے حوالے کرنا تھا مگر انہوں نےاسے قتل کردیا۔ دراصل ویڈیو ایک ایسا ثبوت ہے جس سے سارا کیس شفاف ہوگیا ہے کہ رینجرز اہلکاروں نے نوجوان کو پکڑ نے کے بعد قتل کیاہے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کے بیان اور رینجرز کے جعلی مقابلے کی ایف آئی آر  کے متن میں تضاد پایا جاتاہے جس میں وزیر داخلہ نے کہاتھاکہ ڈاکو نے دو خواتین پر پستول تانی تھی اور وہاں کے چوکیدار نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ کر رینجرز کے حوالے کیا تھا جب کہ مدعی افسر خان کی ایف آئی آر کچھ اور ہی منظر پیش کرتی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں وہی کچھ کہا جس کی انہیں پولیس اور رینجرز کے اعلی عہدیدارن نے بریفنگ دی انہوں نے اس بریفنگ کی صداقت جانے کی خود کوئی کوشش نہیں کی اور میڈیا پر آکر بول دیا۔
 
جمعہ کےروزسپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 5رکنی بینچ نےمعاملے کی سماعت کی۔سپریم کورٹ کی جانب سےازخودنوٹس لئے جانے کےبعد انسپکٹر جنرل پولیس سندھ فیاض لغاری اورڈائریکٹر جنرل رینجرزسندھ میجرجنرل اعجاز چوہدری کوان کےعہدوں سے برطرف کرنے کے اھکامات جاری کر دئے۔عدالت کایہ بحی کہنا تھاکہ بتائی گئی مدت میں اگرحکم پرعمل نہیں ہوتا تو دونوں اعلی افسران کی تنخواہیں روک دی جائیں۔سماعت نمٹاتے ہوئےاپنےفیصلہ میں چیف جسٹس نے مقدمہ کی سماعت کرنےوالی عدالت کو حکم دیاکہ وہ روزانہ کی بنیاد پرسماعت کرکےمقدمہ کو30روزمیں نمٹائے۔

Twitter Delicious Facebook Digg Stumbleupon Favorites More